Skip to content

پاکستان میں توہینِ مذہب کا قانون

September 27, 2012

اسد احمد

ایسوسی ایٹ پروفیسر، ڈپارٹمنٹ آف انتھروپولوجی، ہاورڈ یونیورسٹی

(یہ مضمون بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا تھا)

تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے سی جسے عرفِ عام میں توہینِ مذہب یا توہینِ رسالت کا قانون کہا جاتا ہے ربع صدی سے نافذ ہے۔

اس قانون کی تازہ شکار وہ بارہ سالہ بچی ہے جو کہ اخباری اطلاعات کے مطابق ڈاؤن سنڈروم کا شکار ہے اور اس پر قرآنی قاعدے کے صفحات نذرِ آتش کرنے کا الزام لگا ہے جو بظاہر ایک غلطی لگتی ہے۔

یہ بچی اب پاکستان میں ایسے افراد کی فہرست میں شامل ہوگئی ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے اس قانون کا شکار ہوئے اور ان میں بہت سے افراد بےگناہ بھی تھے۔

اس قانون کی تخلیق کے چھبیس سال بعد جو سوال پوچھا جانا چاہیے وہ یہ ہے کہ ’ آیا دو سو پچانوے سی اُن قانون دانوں کے خدشات دور کرتا ہے جنہوں نے اسے بنایا یا اس کا مسودہ تیار کیا یا یہ ایک ایسا قانون ثابت ہوا ہے جس نے ظلم اور ناانصافی کو بڑھاوا دیا ہے؟‘

اگر پہلی بات صحیح ہے تو فکر کی کوئی بات نہیں لیکن اگر حقیقت دوسری بات کے زیادہ قریب ہے اور اس قانون کا اس سے جڑے تجربات کی روشنی میں دوبارہ جائزہ لیا جانا چاہیے اور اگر ضروری ہو تو اس میں ترمیم یا پھر اسے ختم کر دیا جانا چاہیے۔

انیس سو چھیاسی میں قومی اسمبلی کی جانب سے منظور کیے جانے والی ’دفعہ دو سو پچانوے سی‘ کا انیس سو ستائیس کی قانون ساز اسمبلی کی منظور کردہ ’دفعہ دو سو پچانوے اے‘ سے بھی تقابل ضروری ہے۔

ان دونوں قوانین کا محرک ایک ہی تھا یعنی ’پیغمبرِ اسلام کے خلاف توہین آمیز زبان کے استعمال کے خلاف قانون سازی‘ لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ دونوں متضاد رخ اختیار کر گئے۔

دفعہ دو سو پچانوے سی

مذہب کے الزامات کا سامنا کرنے والی چودہ سالہ رمشاء کی رہائی کے لیے عیسائی تنظیموں نے احتجاج بھی کیا ہے۔

دو سو پچانوے سی کو سترہ جون انیس سو چھیاسی کو قومی اسمبلی میں جماعتِ اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے ایک تحریکِ استحقاق کے ذریعے متعارف کروایا تھا۔

اس وقت کے وزیرِ مملکت برائے قانون اور امورِ پارلیمان میر نواز خان مروت نے ایوان کو یقین دلایا کہ حکومت ایسا کوئی قانون لائے گی اور پھر کسی بل کے مسودے کی تیاری اور اس پر غور کے عمومی پارلیمانی طریقۂ کار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہوں نے لیاقت بلوچ کے تیار کردہ مسودے کو ہی یہ دیکھنے کے لیے بھجوا دیا کہ آیا یہ تعزیراتِ پاکستان کی زبان سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔

اس وقت کی حکومتِ پاکستان کی اسلام پسندی کی تشہیر کے لیے انہوں نے وزیراعظم محمد خان جونیجو سے اس بل کی فوری منظوری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس کے لیے مسودۂ قانون کو کابینہ میں پیش کیے جانے کا عمل لازم نہ قرار دیا جائے۔

ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں چوبیس جون کو بغیر کسی غور و خوص یا جائزے کے اس مسودۂ قانون کو قومی اسمبلی میں بھیج دیا گیا۔ جہاں تک اس کے متن کا تعلق ہے تو اس مسودے اور لیاقت بلوچ کے مسودے میں فرق صرف یہ تھا کہ اس میں تجویز کی گئی سزائے موت کو عمر قید یا جرمانے سے تبدیل کر دیا گیا تھا۔

پھر وزیرِ موصوف نے مناسب سمجھا کہ پارلیمان کے علماء ارکان سے اس معاملے پر مشاورت کی جائے۔ علماء کے اصرار پر کہ توہینِ رسالت کے لیے سزائے موت ایک متفقہ فیصلہ تھا، اس سزا کو دوبارہ مسودۂ قانون میں شامل کر لیا گیا اور یوں اس جرم کی سزا عمرقید یا سزائے موت ہوگئی۔

نو جولائی کو اس بل کو قومی اسمبلی میں بحث کے لیے پیش کیا گیا جہاں علماء ارکان نے موت کی سزا پر زور دیا اور ایوان کے واحد رکن جنہوں نے اس پر تحفظات ظاہر کیے وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے رکن اسمبلی ایم حمزہ تھے۔

ایم حمزہ اس بل کی منظوری میں جلدبازی سے خائف تھے اور ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک مبہم، غیر واضح قانون ہے جس کا نہ صرف غلط استعمال ہوگا بلکہ یہ فرقہ وارانہ کشیدگی اور تنازعات کی وجہ بھی بنے گا۔

انہوں نے اس مسودۂ قانون پر عوام کی رائے لینے کی تجویز بھی دی تاکہ اس میں موجود سقم دُور کیے جا سکیں تاہم علماء نے ایم حمزہ کی تجاویز کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ جب مسلمان قانون دان اس پر متفق ہیں تو اس سلسلے میں مزید غوروخوص کی ضرورت نہیں۔

مولانا شاہ تراب الحق قادری نے ایم حمزہ سے کہا کہ وہ اپنا نقطۂ نظر تبدیل کریں اور ساتھ ہی یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر یہ قانون منظور نہ کیا گیا تو اسمبلی کے بعد فساد پر آمادہ ہجوم جمع ہو جائے گا۔

وزیرِ مملکت میر نواز خان مروت نے اس معاملے پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ اس ہجوم کے ایک رکن وہ خود ہوں گے اور یہ بانیِ پاکستان قائدِاعظم محمد علی جناح کی روح اس قانون کی منظوری پر خوش ہوگی۔

لیکن کیا واقعی ’قائداعظم کی روح‘ اس قانون سے خوش ہوتی؟ اس کے لیے اس کا مقابلہ اس دفعہ دو سو پچانوے اے سے کرتے ہیں جس کی تیاری میں محمد علی جناح کا اہم کردار تھا۔

 دفعہ دو سو پچانوے اے

توہینِ مذہب کے قوانین میں ترمیم کا مطالبہ بارہا کیا جاتا رہا ہے۔

دفعہ دو سو پچانوے اے کو انیس سو ستائیس میں اس وقت متعارف کروایا گیا تھا جب نو آبادیاتی حکومت پیغمبرِ اسلام کے خلاف توہین آمیز کتابچے کے ناشر راج پال نامی شخص کے خلاف مقدمہ چلانے میں ناکام رہی تھی۔

راج پال کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعہ ایک سو ترپن اے کے تحت مقدمہ چلایا گیا اور اسے اسی قانون کے تحت سزا ہوئی۔ اس دفعہ کے تحت ہندوستان کے عوام کے درمیان ’دشمنی اور نفرت‘ پھیلانا ایک جرم تھا۔

سزا کے خلاف اپیل پر مئی انیس سو ستائیس میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس دلیپ سنگھ نے کہا کہ اگرچہ یہ کتابچہ پیغمبرِ اسلام پر طنز ہے لیکن یہ دفعہ ایک سو ترپن اے کے تحت جرم نہیں بنتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ ایک ایسا نیا قانون بنایا جائے جس کا مقصد اہم مذہبی شخصیات کی تضحیک کو جرم قرار دینا ہو۔

نوآبادیاتی حکومت نے اس سلسلے میں کئی حکمتِ عملیوں پر غور کیا لیکن بالاخر وہ اسی نتیجے پر پہنچی کہ اس کے پاس ایک ایسا قانون متعارف کروانے کے سوا کوئی چارہ نہیں جو مذاہب کی تضحیک کے بارے میں ہو اور جس کی مدد سے وہ ان افراد کو سزا دلوا سکے جو جان بوجھ کر کسی کمیونٹی کے مذہبی جذبات مجروح کرتے ہیں۔

نوآبادیاتی حکومت کے قانون ساز اس قانون میں ملزم کی ’نیت‘ کے سوال پر زور دیتے نظر آئے اور انہوں نے الزام عائد کرنے کا حق صرف حکومت کو دے کر اس قانون کو محدود کرنے اور اس کے بلاامتیاز استعمال سے بچاؤ کی کوشش بھی کی۔

چار ماہ کے غور و خوص کے بعد پانچ ستمبر انیس سو ستائیس کو قانون ساز اسمبلی میں ایک مسودۂ قانون پیش کیا گیا جس پر کافی بحث ہوئی اور پھر اسے سینیٹ کی سلیکٹ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔ محمد علی جناح نے قانون ساز اسمبلی اور سلیکٹ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے اس قانون کی حمایت کی۔

انہوں نے بحث کے دوران مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے کے معاملے کو اٹھایا تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بات یقینی بنانا ضروری ہے کہ اس قانون سے آزادئ اظہار متاثر نہ ہو۔

محمد علی جناح نے کہا کہ ’میں اس اصول سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ اس کا ہدف وہ ناپسندیدہ عناصر ہونے چاہیئیں جو کسی طبقے کے مذہب یا کسی مذہب کے بانی یا اس کے پیغمبران کی تضحیک کے عمل میں ملوث ہوں لیکن ہمیں اس نہایت اہم اور بنیادی اصول کا تحفظ بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ جو لوگ حقائق کی تلاش یا کسی مذہب پر ایمانداری سے صحیح تنقید کر رہے ہوں، انہیں بھی تحفظ دیا جائے‘۔

سینیٹ کی سلیکٹ کمیٹی میں محمد علی جناح نے اس بات کو یقینی بنایا کہ قانون کے الفاظ واضح ہوں تاکہ صرف اشتعال انگیز اور مذموم تضحیک میں ملوث افراد کو ہی سزا ملے۔

دونوں کا موازنہ

 جناح نے توہینِ مذہب کے قانون میں اس بات کو یقینی بنایا کہ قانون کے الفاظ واضح ہوں تاکہ صرف اشتعال انگیز اور مذموم تضحیک میں ملوث افراد کو ہی سزا ملے۔

اب یہ سوال کہ کیا محمد علی جناح دو سو پچانوے سی سے خوش ہوتے؟ تو اس کا جواب بظاہر نفی میں ہے۔

پہلی بات یہ کہ دو سو پچانوے سی میں ’نیت‘ کا ذکر نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اس میں بالواسطہ تضحیک کو بھی شامل کیا گیا ہے جس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس نئے قانون کے تحت عالمانہ گفتگو کے دوران اختلاف رائے بھی تضحیک یا توہین کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

صرف یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس قانون کے مسودے میں برتی گئی لاپرواہیاں جناح کے لیے کتنی حیران کن ثابت ہوتیں جبکہ وہ خود توہینِ مذہب کے ایک قانون کی تیاریوں میں شامل رہے تھے۔

ان دونوں قوانین کی تیاری میں تجربے کے فرق اور ان کے استعمال/غلط استعمال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر جدید قوانین میں مسلم قانون سازوں کی آراء کو شامل کیا جانا ہو تو اس پر پہلے غوروخوص اور بحث ضروری ہے۔

اس سلسلے میں مسلم علماء اور مسلم قوانین کے ماہرین کی رائے لینا ضروری ہے لیکن شایہ یہ لوگ جدید قوانین کی پیچیدگیوں کو نہیں سمجھتے۔ اس لیے ان معاملات کو محمد علی جناح جیسے افراد پر چھوڑ دینا چاہیے جو نہ صرف جدید قوانین کے بارے میں جانتے ہوں بلکہ ایک روایت سے اخذ کر کے دوسری روایت میں ضم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

مزید براں قانون کو مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے بنایا جانا چاہیے۔

دو سو پچانوے سی کے خالقوں کا دعویٰ تھا کہ اس وقت موجود قوانین رسالت یا رسول اللہ کے تحفظ کے لیے کافی نہیں تھے۔

یہ ایک غلطی ہے اگرچہ دو سو پچانوے اے میں پیغمبرِ اسلام کا نام نہیں لیا گیا لیکن عام خیال یہی ہے کہ یہ قانون ان کی توہین کے معاملے کی وجہ سے ہی بنا۔

اگر ان دونوں قوانین کے مثبت اور منفی اثرات کا تقابل کرنا ہوں تو صرف ان کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

دو سو پچانوے سی کے بطور ایک ’ہتھیار‘ استعمال کی وجہ سےگزشتہ چھبیس سال میں بڑی تعداد میں توہینِ رسالت کے الزامات، سزائیں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ اس کے برعکس دو سو پچانوے اے کو موثر طریقے سے ان افراد پر مقدمہ چلانے کے لیے استعمال کیا گیا جو مذموم مقاصد کے تحت مذہب کی توہین کر رہے تھے۔

تو اب کیا ہم ’لیاقت کے قانون‘ یا دو سو پچانوے سی کو برقرار رکھیں جو کہ ایک ایسا قانون ہے کہ جسے غیر پیشہ ور یا شوقیہ قانون سازوں نے تیار کیا اور جس کی تیاری میں بلاوجہ کی جلدبازی کی گئی یا پھر ہم ’جناح کے قانون‘ سے رہنمائی حاصل کریں جو ایک جانب پیغمبرِ اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ اور دوسری جانب قانون کے غلط استعمال اور جھوٹے الزامات سے بچاؤ کا خیال رکھتے ہوئے بنایا گیا۔

اس کا جواب واضح ہے اور اب علماء، اراکینِ پارلیمان اور عوام کو دو سو پچانوے سی پر غور کرنا چاہیے۔ بہت سے لوگ یہ کر رہے ہیں اور امید ہے کہ مزید کریں گے۔ اس سلسلے میں ایک کھلی بحث جس میں رائے کے تمام پہلو شامل ہوں نہایت ضروری ہے۔

اس قانون میں ترمیم کی جا سکتی ہے اور کی جانی چاہیے تاکہ جہاں یہ انصاف فراہم کرے وہیں ساتھ ساتھ مسلم جذبات کا تحفظ بھی کرے یا پھر دو سو پچانوے اے اس سب کے لیے کافی ہے۔

 

Advertisements
One Comment leave one →
  1. sattar rind permalink
    September 28, 2012 6:59 pm

    religious issues are very complicated in many ways.M A Jinnah himself approved this law. its a surprising news.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: